Breaking News

کنو سرگودھا کی پہچان اور فائدہ مند فصل - تحریر عاطف فاروق


کنو سرگودھا کی پہچان اور ایک فائدہ مند فصل تحریر عاطف فاروق سرگودھا

عاطف فاروق

یوں تو ضلع سرگودھا میں آم ، امرود ، جامن و دیگر پھل بکثرت کاشت کئے جاتے ہیں لیکن جو پھل ضلع سرگودھا کی پہچان ہے وہ کنوہے ۔ ضلع سرگودھا کا کنودنیا بھر میں معروف حیثیت کا حامل ہے کیونکہ اس کا ذائقہ میٹھا اور رسیلا جبکہ جسامت بھی دنیا بھر کے کنوﺅں سے بہتر ہے ۔ ضلع سرگودھا کا شمار پاکستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں کنو کی مجموعی پیداوار کا 60 سے 70 فیصد پھل پیدا ہوتا ہے ۔ ضلع سرگودھا میں سالانہ 14 لاکھ ٹن کنو پیدا ہوتا ہے ۔ کنو ، مسمی ، فلوٹر ، ریڈ بلڈ ، مالٹے سمیت 60 سے زائد اقسام کے ترشاوہ پھل ضلع سرگودھا میں پیدا ہوتے ہیں ۔ کنو کی پیداوار کے حوالے سے ضلع سرگودھا کا علاقہ بھلوال اور کوٹمومن امتیازی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کینو کی غیر معمولی کاشت کی وجہ سے بھلوال کو ”کینو کیپٹل “ اور ” کیلی فورنیا آف پاکستان“بھی کہا جاتا ہے ۔ اس وقت ضلع سرگودھا میں کنو کی پروسیسنگ کے 250 سے زائد کارخانے (فیکٹریاں) کام کررہے ہیں جہاں ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔ کنو کی کاشت کے علاوہ کنو کے پھل کو توڑنا بھی ایک فن اور روزی کا ذریعہ بن چکا ہے ۔ ہر سال کنو کے سیزن میں جنوبی پنجاب خصوصاً ملتان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مزدور سرگودھا کا رخ کرتے ہیں اور کنو کی کٹائی سے لے کر فیکٹریوں میں پیکنگ تک اس عمل کا حصہ بنتے ہیں ۔ ضلع سرگودھا میں پیدا ہونے والا کنو روس کے علاوہ انڈونیشیا ، ملائشیا ، متحدہ عرب امارات، مشرق وسطیٰ میں بھی ایکسپورٹ کیا جاتا ہے ۔ کنو کے غیر معمولی ایکسپورٹ کی وجہ سے ہی سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عرصہ دراز سے حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ ضلع سرگودھا میں ڈرائی پورٹ قائم کی جائے تاکہ کنو کی ایکسپورٹ کے حوالہ سے درپیش مسائل کا ازالہ ہوسکے اور اس کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرکے زرمبادلہ کے حجم میں اضافہ کیا جاسکے ۔
پوری دنیا میں ترشاوہ پھلوں کی کاشت کے حوالے سے بات کی جائے تو ترشاوہ پھلوں کے آبائی وطن جنوب مشرقی ایشیا، چین اور ہندوستان ہیں ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ترشاوہ پھلوں کی کاشت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ وطن عزیز ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں دنیا بھر میں گیارہویں نمبر پر ہے ۔ پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کی باقاعدہ باغبانی کا آغاز 1950ءمیں ہوا اور آج پاکستان ترشاوہ پھلوں کی پیداوار کے حوالے سے رقبہ اور پیداوارمیں تمام پھلوں میں سرفہرست ہے ۔ پاکستان میں ترشاوہ پھلوں کا رقبہ اس وقت 192800 ہیکٹرز ہے جن سے سالانہ پیداوار 2001800 ٹن حاصل ہورہی ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں زیر کاشت رقبہ 182100 ہیکٹرز اور سالانہ پیداوار 1930100 ٹن حاصل ہورہی ہے۔ ضلع سرگودھا کے علاوہ ترشاوہ پھل منڈی بہاﺅالدین، فیصل آباد، لیہ ، ساہیوال ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، وہاڑی اور خانیوال میں وسیع پیمانے پر کاشت ہورہے ہیں ۔ پاکستان میں یہ پھل برآمد کے حوالے سے بھی سرفہرست ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق ہر سال کینو کی 737 ہزار ٹن مقدار برآمد کرکے 32067 ملین روپے کا قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ گزشتہ چند سالوں سے ترشاوہ پھلوں کی برآمد ایک مکمل صنعت کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور ملک بھر میں 600 سے زائد گریڈنگ پلانٹس لگائے جاچکے ہیں تاکہ اس پھل کو بہتر انداز میں برآمد کرکے مزید زرمبادلہ کمایا جاسکے ۔
ترشاوہ پھلوں کی برآمد بڑھانے کے لئے حکومت بھی گاہے بگاہے عملی اقدامات عمل میں لاتی رہتی ہے ۔ اس سال بھی ترشاوہ پھلوں کی برآمد کے لئے حوالے سے تمام ضروری اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں ۔ پاکستان سٹرس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے گزشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سیزن کے دوران ملک بھر سے 6 لاکھ ٹن سے زائد کنو مختلف ممالک کو برآمد کرکے 45 کروڑ ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ حاصل کیا جائے گا جبکہ 31 دسمبر تک یورپ ، روس ، یوکرین، مڈل و فارایسٹ اور ناروے وغیرہ کو 65 ہزار ٹن سے زائد کنو برآمد کئے جاچکے ہیں اور ہدف کے مطابق مزید کنو کی برآمد کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ پاکستان سٹرس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ جنوری کے دوران پاکستان سے کنو کی برآمد میں مزید تیزی آئے گی اور توقع ہے کہ اگلے 2 ماہ کے دوران کنو کی برآمد کا مقررہ ہدف مکمل کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف علاقوں میں کنو کی فصل تیاری کے آخری مراحل میں ہے لہذا جنوری اور فروری کے دوران کنو کی ایکسپورٹ اپنے پورے عروج کو پہنچ جائے گی ۔
دنیا میں ترشاوہ پھلوں کی ترویج و ترقی میں ان کی طبی و غذائی اہمیت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے ۔ ترشاوہ پھلوں میں کنو میں حیاتین کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں حیاتین ج اور ب قابل ذکر ہیں ۔ یہ دونوں حیاتین مفرح قلب ہیں اور زودہضم و مصفا خون ہیں مزید انسانی جسم میں کینسر جیسی خطرناک بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں ۔ جغرافیائی لحاظ سے ترشاوہ پھل نیم استوائی علاقوں میں سطح زمین سے تقریباً 2500 فٹ بلندی پر کاشت کئے جاسکتے ہیں ۔ موزوں ترین درجہ حرارت 25 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے ۔ پھول کھلنے پر بارشیں نقصان دہ ہیں ۔ سال کے زیادہ تر حصہ میں نمی درمیانہ درجہ تک ہوا اور ایسے علاقے جہاں دن اور رات کے درجہ حرارت میں زیادہ فرق ہو ، راتیں ٹھنڈی ہوں ، موزوں ہیں ۔ ترشاوہ پھلوں کی کامیاب کاشت کیلئے اچھے نکاس والی ہلکی زمین موزوں ہے جس کی تعدیلی شرح 7 تک ہو ۔ کلراٹھی و سیم زدہ زمین موزوں نہیں اور نہ ہی ایسی زمین جہاں نمکیات 1000 پی پی ایم سے زیادہ ہوں ۔ زمین کے اوپر والی سطح سے 8-10 فٹ گہرائی تک ریت ، کنکر اور کیلشیم کاربونیٹ کی تہہ وغیرہ نہ ہو ۔ سطح زمین سے پانی 10 فٹ گہرائی تک ہو ۔ ترشاوہ پھلوں کے پودے سال میں دو مرتبہ مرسم بہار(فروری، مارچ) اور موسم خزاں (ستمبر ، اکتوبر) میں لگائے جاتے ہیں ۔ پودوں کی نشاندہی کے بعد ان جگہوں پر 3x3 فٹ کے گڑھے کھودے جاتے ہیں۔ گڑھا کھودتے وقت اوپر کی ایک فٹ مٹی ایک طرف اور باقی 2 فٹ نیچے والی مٹی علیحدہ رکھ دی جاتی ہے ۔ یہ گڑھا تین چار ہفتے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد اوپر والی ایک فٹ مٹی ایک حسہ گوبر کی گلی سڑی کھاد اور ایک حسہ بھل اچھی طرح ملاکر گڑھوں کو بھردی جاتی ہے اور پانی لگادیا جاتا ہے تاکہ مٹی اچھی طرح بیٹھ جائے اور وتر آنے پر پودے کی گاچکی کے مطابق گڑھا کھود کو پودے کو اس میں اچھی طرح لگادیا جاتا ہے اور آبپاشی کردی جاتی ہے ۔
پھل بننے اور بڑھنے کے موسم میں گرمی ہوتی ہے اس لئے ان دنوں میں پودوں کی آبپاشی کاخاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ گرمیوں میں 7 سے 10 دن کے وقفہ سے اور سردیوں میں 25 سے 30 دن کے وقفے سے آبپاشی کی جاتی ہے ۔ کنو کے باغات کی کامیاب کاشت کیلئے نامیاتی مادہ کی مقدار 2 سے 2.5 فیصد ہونا ضروری ہوتی ہے اس لئے گوبر کی کھاد پھول آنے سے دو ماہ قبل دسمبر جنوری میں دے دی جاتی ہے جبکہ کیمیائی کھادوں میں فاسفورس اور پوٹاشیم کی پوری مقدار اور نائٹروجن کی آدھی مقدار پھول آنے سے قبل ڈالی جاتی ہے جبکہ باقی ماندہ نائٹروجن کی مقدار پھل بننے کے بعد وسط تک ڈالی جاتی ہے ۔ ترشاوہ باغات میں بارآوری ہونے سے پہلے عرصہ میں مختلف فصلوں کی کاشت کرنا سود مند ہوتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف معقول آمدنی حاصل ہوتی ہے بلکہ پودوں کی صحت اور بڑھوتری پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے ۔ باغ جڑی بوٹیوں سے صاف رہتا ہے اور زمین کی حالت بھی بہتر رہتی ہے ۔ ترشاوہ باغات کئی ایک وجوہات کی وجہ سے ایک سال زیادہ پیداوار دیتے ہیں جبکہ اگلے سال پیداوار کم ہوجاتی ہے ۔ اس پر قابو پانے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ محکمہ زراعت کی سفارشات برائے آبپاشی ، کھادیں ، ہواتوڑ باڑیں ، فصلوں کی مخلوط کاشت ، ضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں کے لئے بروقت اقدامات کئے جائیں اور جس سال پھل بہت زیادہ لگے اس سال ابتداءمیں ہی پھلوں کی چھدرائی (Thining) کرکے پودے کی صحت اور پھل کی مقدار کے توازن کو اعتدال میں لایا جائے ۔ ترشاوہ باغات میں پھول اور پھل کے کیرے کی کئی وجوہات ہیں مثلاً پودے میں خوراک کی کمی ، کیڑے یا بیماریوں کا حملہ ، پانی کی کمی یا زیادتی اور نامناسب موسمی حالات وغیرہ ۔ اس لئے ان مسائل کے حل کیلئے دیکھ بھال سمیت دیگر تمام پہلوﺅں جیسا کہ ہواتوڑ باڑیں ، کیڑے مار ادویات کا استعمال ، کھادوں کا استعمال اور آبپاشی کو مدنظر رکھنا اور ان کا بروقت استعمال اور کنٹرول نہایت ضروری ہے ۔
ضلع سرگودھا میں کنو کی کاشت کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں سال میں دو بار کنو کی چنائی ہوتی ہے ۔ نومبر میں کچا کنو شروع ہوجاتا ہے جو کہ ترش ہونے کے باعث ابھی کھانے والا نہیں ہوتا تاہم چنائی شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ چنائی دسمبر سے شروع ہوتی ہے اور جنوری ، فروری تک جاری رہتی ہے۔ مارچ میں کنو کی فصل کو نئے پھول لگنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ کنو کی فصل کو نہری پانی درکار ہوتا ہے ۔ اسے دوسری فصلوں کی نسبت کم پانی لگانا پڑتا ہے ۔ اس کی زمین جتنا خشک رہے اتنا ہی بہتر ہے ۔ وقتاً فوقتاً ہل چلانا، دو مرتبہ سپرے کرنا اور کھاد ڈالنا اس کے لوازمات میں شامل ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ کنو کی فصل وطن عزیز کے لئے اس حوالے سے انتہائی فائدہ مند ہے کہ اس فصل کی ایکسپورٹ سے کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے تاہم کنو کے کاشتکار گزشتہ کئی سالوں سے مسائل کا شکار ہیں ۔ اداروں کے درمیان ربط کی کمی اور کاشتکاروں کی ہچکچاہٹ مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے کنو کا مناسب ریٹ طے نہ ہونے کی وجہ سے کنو کے کاشتکار کم ریٹ پر کنو فروخت کرکے استحصال کا شکار ہوتے رہے جبکہ بعد ازاں کنو کی ایکسپورٹ کم ہونے اور حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے متعدد پروسسینگ یونٹس بند رہے جس کی وجہ سے بھی کنو کی ایکسپورٹ میں کمی واقع ہوئی ۔ مزید برآں محکمہ زراعت کے نااہل افسران کی کاہلی اور غفلت کی وجہ سے ضلع سرگودھا میں بھی متعدد باغات وائرس اور دیگر بیماریوں کی لپیٹ میں رہے ان بیماریوں میں فصل کو پھپھوندی لگ جانا ، کنو کا سائز کم ہونا، کیکرکیری ، سیکیپ ، سٹریس کنکر ، میلانوز، سڈن دیتھ وغیرہ شامل ہیں ۔ عام طور پر کاشتکار ان تمام بیماریوں سے واقف نہیں ہوتے اور عدم معلومات کی وجہ سے ان کے تدارک کیلئے بھرپور تدابیر اختیار نہیں کرپاتے ۔ ایسے حالات میں محکمہ زراعت کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ضروری ہوتا ہے تاہم محکمہ کے افسران اور فیلڈ ورکرز نہ تو اس جانب توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی ان مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔اس بابت کاشتکاروں کا موقف ہے کہ کنو کا ایک پودا پانچ سو سے زائد کنو پیدا کرسکتا ہے ۔ لیکن موسم کی تبدیلی ، کنو پر حملہ آور بیماریوں ، نہری پانی کی کمی ایسے عوامل ہیں جو اکثر کسان کی محنت کو رائیگاں کردیتے ہیں ۔ بیشتر کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگی میں تاخیر یا مقرر کردہ ریٹ سے کم ریٹ پر ادائیگی سے متعلقہ مسائل کا بھی سامنا رہتا ہے ۔ اکثر اوقات ٹھیکیدار حضرات کسان کو اس کی محنت کا انتہائی کم معاوضہ دیتے ہیں جبکہ خود فیکٹری مالکان کے ساتھ ساز باز کرکے کثیر نفع لے اُڑتے ہیں ۔ ادائیگیوں میں عدم توازن کی وجہ سے بھی کئی کاشتکار کنو کے باغات کی بجائے دیگر فصلوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کنو کی صنعت پر خصوصی توجہ دے تاکہ یہ صنعت ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے ۔ کنو کی کاشت کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ ایک مخصوص بیماری (وائرس) ہے جس نے اس علاقہ میں گزشتہ 3 سال سے کنو کی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس وائر س کی وجہ سے نہ صرف کنو کی پیداوار متاثر ہورہی ہے بلکہ مناسب رہنمائی نہ ملنے پر کسان / کاشتکار بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں ۔ دریں حالات ضروری ہے کہ محکمہ زراعت کے نااہل اور سست افسران کا قبلہ درست کیا جائے تاکہ وہ اس وائرس پر تحقیق کرکے اس کے تدارک کے لئے اقدامات عمل میںلاسکیں ۔ مزید اگر ضلع سرگودھا میں سیزنل ڈرائی پورٹ قائم کردیا جائے تو یقینا کنو کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرکے بھاری زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
٭....٭....٭....٭....٭
سرگودھا اپ ڈیٹس - تاحد نظر - تاحدِ نظر - عاطف فاروق سرگودھا